Ishq Giriyan Season 2 Episode 1

عشق گیریاں

Season 2 Episode 1

سائیں ۔۔ وہ اندر آی تو اسے پکارا 

جی ؟ وہ جو آنکھیں بند کیے صوفے پر بیٹھا تو آنکھیں کھولتا بولا

آپ چائے پی لیں میں نے خود بنائی ہے ۔۔۔ فریال کو اسکے الفاظ نے سر شار کیا تھا کہ اس نے اس کے لیے سٹینڈ لیا تھا  

ہمم شکریہ ۔۔۔ سکندر نے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر ٹیبل پر  رکھتے کہا 

تم پہلے جیسی نہیں رہی ؟

فریال سکندر کی بات پر مسکرائی

زندگی بھی تو پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔۔ اب تو میں شادی شدہ ہوں اور مجھے اس گھر کو جوڑ کر رکھنا ہے 

وہ اسے کہتی ڑریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بالوں کو کھولے اس میں کنگھی چلانے لگی 

پھر تو تمہیں اپنے شوہر سے محبت بھی کر لینی چاہیے ! سکندر نے اسکا پورا جائزہ لیتے کہا

وہ تو مجھے کبھی نہیں ہوگی سردار سکندر اعظم! وہ کہتے ہسنے لگی 

سکندر اعظم ؟ سکندر نے اپنے نام کے بگاڑنے پر اسے گھورا

کیا سائیں اب میں بدل گئ ہوں نو اعظم ۔۔۔ اونلی سائیں ۔۔۔ وہ کہتے پھر سے شیشے میں دیکھنے لگی 

سکندر گہرا سانس لے کہ رہ گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہریار اپنے کمرے میں پینٹنگ کر رہا تھا جب اس کا فون بجنے لگا 

شہریار نے برش رکھا اور فون رسیو کیا 

ہاں بولو کبیر ؟

چھوٹے سائیں آپ جلدی سے گاؤں والے گھر آجائیں 

شہریار دوسری جانب سے آواز پر چونکا

کیا مطلب ہے ؟ سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔۔ وہ پریشانی سے بولا 

چھوٹے سائیں آپ خود آکر دیکھ لیں بس تھوڑا جلدی آئیں 

کبیر کی آواز پر شہریار جلدی سے باہر بھاگا 

اور نیچے آیا۔۔۔۔ حویلی کے لاونج میں بیٹھی بی جان اور سائرہ بیگم نے اسے بھاگتے ہوے جاتے دیکھا

یا اللہ خیر کیا ہو گیا شہریار کو اس طرح کیوں بھاگا ہے 

بی جان پریشانی سے بولیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گاڑی کی فل سپیڈ لگائے گھر کے سامنے بریک لگاتا گاڑی سے جلدی سے اترا

کیاہوا کبیر ؟ 

گھر کے سامنے کھڑے کبیر کو دیکھ کر شہریار نے پوچھا

چھوٹے سائیں ۔۔۔۔ سلمہ بیگم صاحبہ کو ناجانے کیسے پتہ چل گیا کہ آپ کے گھر پر سائشہ بی بی رہتی ہیں 

وہ آج آئیں اور ہمارے لاکھ روکنے پر بھی وہ نہیں رکیں 

اندر جا کر بی بی جی کو بہت برا بھلا کہا 

اور پھر گھر سے نکال دیا

کیا؟ تو تم لوگ یہاں کیا کر رہے تھے ؟ تم لوگوں کو سائشہ کی حفاظت کے لیے رکھا تھا میں نے ۔۔۔۔۔

آج پہلی دفع شہریار اپنے ملازمین پر بڑھکا تھا

جس پر کبیر سر جھکا گیا

چھوٹے سائیں ہم کیا کرتے جب سلمہ بیگم خود آئیں تھیں 

بس مجھے اتنا بتاؤ اس وقت سائشہ کہاں ہے ؟

شہریار کے اعصاب سخت تنے ہوے تھے اسے سائشہ کی فکر ہو رہی تھی 

جی وہ سکینہ بی کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں 

کبیر کی بات سنتے ہی شہریار گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اس راستے پر ڈال دی 

کچھ ہی دیر میں گاڑی ان کے گھر کے سامنے روکتے وہ دروازے پر دستک دیتا ہے 

سکینہ بی نے دروازہ کھولا

بی کیا سائشہ آپ کے گھر آئ ہیں ؟

وہ پریشانی سے بولا

ہاں بیٹا آجاؤ اندر ہی ہے ۔۔۔ سکینہ بھی کافی پریشان تھیں وہ بھی بولیں 

جس پر شہریار اندر بڑھا

مقدس اسوقت سائشہ کے ساتھ کمرے میں تھی شہریار کو آتے دیکھ کر وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گئ 

شہریار نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مقدس کے نکلنے پر دروازے کو بند کیا

سائشہ بیڈ پر سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی 

سائشہ ! شہریار اس کے پاس بیٹھا

وہ شہریار کی آواز سن کر چونکی

اور سر اٹھا کر اس کو دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا تھا 

شہریار آپ ۔۔۔ وہ کہتے ہی آگے ہوتے اس کے سینے سے لگ گئ 

بس کر دیں سائشہ مت روئیں ۔۔۔ مجھے بے تحاشہ تکلیف ہو رہی کہ میں آپ کی حفاظت نہیں کر پایا میرے ہی گھر سے آپ کو نکالا گیا

شہریار اس کے گرد حصار بناتے بولا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *